اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے چھٹی محرم کو بھی وادی کے طول و عرض میں جلوس ہائے عزاء کا سلسلہ جاری رہا۔ علم شریف کے سب سے بڑے جلوس زوری گنڈ بڈگام اور رکھ آرتھ بمنہ سے برآمد ہوئے۔ جن دیگر مقامات پر علم شریف کے جلوس برآمد کئے گئے ان میں سونہ پاہ بیروہ ، بڈگام ، کانی کچی میر بحری سرینگر، مغل محلہ باغوان پورہ، خانقاہ میر شمس الدین اراکی جڈی بل سرینگر، چنگہ محلہ شالیمار، گلشن باغ سرینگر، زالپورہ بانڈی پورہ ، اندکھلو سوناواری اور ملہ پورہ نوگام شامل ہیں۔ جلوس ہائے عزاء کے دوران مختلف مقامات پر علمائے دین نے معرکہ کربلا کے درس و پیغام کی وضاحت کرتے ہوئے عزاداروں کی توجہ دنیائے اسلام کی موجودہ صورتحال کی طرف مبذول کرائی۔ علمائے دین نے امام عالیمقام کے کردار و عمل کو دین و انسانیت کی سربلندی اورمظلومین جہاں کی نجات کا نقش راہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا کے کئی خطوں میں مظلوم مسلمانوں پر مسلط قوتوں کا جبروقہر کربلا کا منظر پیش کررہا ہے۔ دنیا میں 56 اسلامی ممالک کی حکومتیں جو ہر قسم کے وسائل سے مالا مال ہیں اپنے مظلوم بھائیوں کے کشت و خون کو روکنے کیلئے کسی موثر حکمت عملی سے قاصر ہیں۔ علمائے دین نے ماہ محرم الحرام کو مظلومین کے ساتھ یکجہتی اور ظلم و ظالم کے ساتھ اظہار بیزاری کا مہینہ قرار دیتے ہوئے ملی رشتوں کی تجدید کی ضرورت ، اہمیت اور تقاضوں کو اجاگر کیا۔ دریں اثناء علاقہ میر بحری میں پینے کے پانی کی سخت قلت پر کانی کچی میں جلوس عزا کے دوران متعلقہ محکمہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔ احتجاجیوں نے متعلقہ محکمہ پر الزام عائد کیا کہ نشاط واٹر سپلائی سکیم سے علاقہ میر بحری کو علی الصبح صرف دو گھنٹے سے قلیل مدت کیلئے پانی فراہم کیا جارہا ہے جو محرم کے ان مقدس ایام میں عوام کی ضروریات سے کو ئی مطابقت نہیں رکھتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲